سب سے پہلے تو میری طرف سے اہلیانِ وطن کو آزادی مبارک ہو۔ اس دن لوگوں کا، خاص طور پر نوجوانوں کا جوش و خروش دیدنی ہوتا ہے۔ ہر ایک اپنے اپنے انداز میں خوشی و مسرت کا اظہار کر رہا ہوتا ہے۔ بچے اپنے گالوں پر پاکستانی پرچم پینٹ (paint) کیے ہوئےاپنے ہم جولیوں کے ساتھ آگے پیچھے بھاگتے ہوئے عید کا سا سماں پیدا کر دیتے ہیں۔ نوجوان اپنے دوستوں کے ساتھ اِس دلکش وطن کی خوبصورتی کو سراہنے کیلئے مختلف مقامات کی سیروتفریح کا پروگرام بناتے ہیں۔ بزرگ ان سب کو خوش ہوتا دیکھ کر اپنے رب کا شکر بجا لاتے ہیں کہ جس نے ہمیں ایک آزاد وطن کی نعمت سے نوازا اور اپنے آباؤ اجداد کو یاد کرتے ہیں کہ جن کی انتھک محنتوں اور قربانیوں کا ثمر ہمیں اس پاک وطن کی صورت ملا۔

مجھے، بحیثیتِ نوجوان، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہم نے اپنے مقصد سے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے۔ ہم یہ تو جانتے ہیں کہ نظریہ پاکستان کیا تھا، کس نے پیش کیا تھا، کب پیش ہوا تھا، کیونکہ ہم مطالعہ پاکستان کے پرچہ میں اچھے نمبروں سے پاس ہونا چاہتے ہیں لیکن ہم نے کبھی یہ سوچنے کی زحمت نہیں کی کہ نظریہ پاکستان کی روح کیاتھی اور وہ کیسا جنوں تھا، وہ کون سی ضرورت تھی جس کے پیش ِ نظر ہمیں ایک الگ ملک کے قیام کے بنا اور کوئی چارہ نظر نہ آیا۔وہ کیا خواب تھا جس نے ہندوستان کے مسلمانوں کو بیدار کر دیا اور جس کی تعبیر کیلئے انھوں نے اپنے تن، من، دھن کی بازی لگا دی۔ اور کیا آج 70 سال بعد ہم نے اس خواب کی تعبیر پا لی ہے اور اگر نہیں، تو کیوں نہیں؟

کیا ہم اسی طرح بیٹھ کر سیاستدانوں کا منہ دیکھتے رہیں گے کہ یہی اس قوم کی حالت بدل سکتے ہیں اور ان کی ہر بات کو بلا سوچے سمجھے سچ مان کرانکی اندھا دھند پیروی کریں گے اور اگر کوئی ان کی بات اور نظریات سے اختلاف کرتا ہو، اس کو لعن طعن کریں گے؟ کیا ہم میں صرف اور صرف اس ملک کی کمزوریاں ڈھونڈنے اور اپنی قسمت کا ماتم کرنے کی ہی سکت ہے کہ اس ملک میں بجلی کا بحران ہے ، بد نظمی ہے ، معاشی بد حالی ہے اور یہاں ہماری زندگی اجیرن ہے؟ کیا ہم ہمیشہ یہی سوچیں گے کہ کامیابی کے لیے بیرونِ ملک جانا ہی بہتر ہے کیونکہ پاکستان میں کسی چیز کا کوئی سکوپ ہی نہیں؟ کیا ہم صرف اخبار پڑھنے تک ہی محدود ہو گئے ہیں یہ جاننے کیلئے کہ کب تبدیلی آئے گی اور اس ملک کی حالت بدلے گی؟ کیا ہم خود اس ملک کی حالت بدلنے کیلئے کچھ تگ و دو کر رہے ہیں یا پھر ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہیں؟

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

کیا ہم میں سے کوئی اس ملک کی فلاح و بہبود کیلئے خود کوئی قدم اٹھاتا ہے یا ہم بس بیٹھ کر اوروں کا ہی منہ دیکھتے رہیں گے۔ ہم بھی کیا امید لگائے بیٹھے ہیں کہ بس جیسے ہی فلاں کا اقتدار آئے گا تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اس وقت تک کچھ بھی ٹھیک نہیں ہونا جب تک کہ ہم خود کو ٹھیک نہ کر لیں۔ ہم میں سے اگر کسی میں کوئی قابلیت ہوتی بھی ہے تو اسکی یہی کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح جلد از جلد بیرونِ ملک چلا جائے اور وہاں آرام سے زندگی بسر کرے۔ ایک وہ وقت تھا کہ جب لوگ اپنے عہدے ، اپنی جائدادیں، اپنی زندگیاں، اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ہندوستان سے پاکستان آئے تھے صرف اس لیے کہ وہ اس ملک کی خدمت کر سکیں، اسے اپنے پیروں پر کھڑا کر سکیں۔ انھی کی کاوشوں کی بدولت یہ ملک ابھی تک سلامت ہے ورنہ ہم نے تو اس کو کچھ بھی نہیں دیا۔ وہ ملک جس نے ہمیں اس دنیا میں شناخت دی، عزت دی ، مقام دیا، وہ سب کچھ دیا جس کی کوئی تمنا کر سکتا ہے اور جب ہمارے لوٹانے کی باری آتی ہے تو ہم مشکلات سے نبرد آزما ہونے کی بجائے گھبرا کر یہ کہتے ہوئے چلتے بنتے ہیں کہ اس ملک کا کچھ نہیں ہو سکتا اور بہتر پُرسکون زندگی صرف بیرونِ ملک ہی ممکن ہے۔

اس ساری بات کا مقصد یہ تھا کہ ہمیں دوسروں کو دیکھنے کی بجائے، اپنی ہمت و طاقت کو مدِنظر رکھتے ہوئے، اس مٹی کی آبیاری کرنی چاہیئے تاکہ جو بیج آج سے 70 سال پہلے ہمارے آباؤ اجداد لگا گئے ہیں، وہ پھل پھول سکے۔ ہر شخص اگر اپنی استطاعت کے مطابق اس ملک کی ترقی و بہبود میں حصہ لے گا تو میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ یہ ملک دن دُگنی اور رات چوگنی ترقی کرے گا۔ اگر ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ ہم اس ملک کی سلامتی و کامرانی کے بارے میں ایسے ہی سو چیں گے جیسا کہ ہم اپنے بارے میں سوچتے ہیں، اس ملک کی ترقی کیلئے ویسے ہی محنت کریں گے جیسا کہ اپنے لیے کرتے ہیں تو پھر مجھے امید ہے کہ وہ خواب جو اقبال ؒ نے دیکھا تھا اور جس کی تعبیر کیلئے قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت میں لاکھوں مسلمانوں نے اپنا سب کچھ قربان کر دیا، حتیٰ کہ ہزاروں نے اپنی جانوں کے نذرانے تک پیش کیے تھے، ہم اُس خواب کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکتے ہیں۔

اے روحِ قائد آج کے دن ہم تجھ سے وعدہ کرتے ہیں

مٹی سے ہے سچا پیار ہمیں ہم پیار کے رنگ ابھاریں گے
اب خونِ رگِ جاں بھی دے کر مٹی کا قرض اتاریں گے
ڈھالیں گے فضا میں وہ جذبے، کاغذ پہ جو لکھا کرتے ہیں
اے روحِ قائد آج کے دن ہم تجھ سے وعدہ کرتے ہیں

دریاؤں کی تہہ میں اتریں گے رخشندہ گوہر لائیں گے
افلاک کی حد کو چُھو لیں گے تارے بھی زمیں پر لائیں گے
کر دیں گے عمل سے بھی ثابت باتیں تو ہمیشہ کرتے ہیں
اے روحِ قائد آج کے دن ہم تجھ سے وعدہ کرتے ہیں

دست و بازو کی کھا کے قسم پھر آج چلے ہیں اہل ِ ہنر
ہم تازہ دم ، ہم روشن دِل، ہم محنت کش، ہم دانش ور
خامے سے دھنک لہراتے ہیں تیشے سے اجالا کرتے ہیں
اے روحِ قائد آج کے دن ہم تجھ سے وعدہ کرتے ہیں

موسم بھی نظر ڈالے گا تو اب چونکے گا ہماری محنت پر
سورج بھی ہمیں اب دیکھے گا تو رشک کرے گا ہمت پر
اب یہ نہ کہیں گے ارض و سما ہم دن ہی منایا کرتے ہیں
اے روحِ قائد آج کے دن ہم تجھ سے وعدہ کرتے ہیں